Chiragh Talay

Chiragh Talay

    495

    مشتاق احمد یوسفی نے اردو مزاح کو ایک نئے مزاج سے آشنا کیا ہے۔ یہ مزاج اس کا اپنا مزاج ہے۔

    اس رنگا رنگ مجموعے میں ایسے رچے ہوئے مزاج کی جھلکیاں نظر‌ آتی ہیں، جو چوٹ کھا کر بدمزہ نہیں ہوتا۔ طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے بلکہ سوچ کی گہری لکیریں ابھر آتی ہیں، جو دیکھتے دیکھتے تبسم زیرِ لب میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ وہ ہنسی ہنسی میں کام کی بات کہہ جاتا ہے۔ دوسروں پر ہنسنے سے پہلے اس نے اپنے ہی داغوں کی بہار دکھا کر دوسروں کو ہنسایا ہے اور پھر خود بھی اس ہنسی میں شریک ہو گیا ہے۔ یوسفی کا مزاح شگفتہ و شاداب ہے، اور اس کا طنز کڑی کمان کا تیر، ان مضامین میں تفکر و تفنن کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ اور تحریر کا تیکھا اور رسیلا اسلوب، مشاہدے کی وسعت اور طبیعت کے نکھار کا پتا دیتا ہے۔ وہ لہجے کے اتار چڑھاؤ کی نزاکتوں سے واقف ہے اور الفاظ کا مزاج پہچانتا ہے۔

    یہی چیز ایک ایک لفظ کو تلوار اور ہر ایک مضمون کو خندۂ تیغِ اصیل بنا دیتی ہے

    Description

    • Print Length182 pages
    • Publisher Maktaba-e-Daniyal
    • Publication Date2001
    • Sold ByOnline book
    • LanguageUrdu
    • ISBN

    Reviews

    Comments are closed.