Farsi Adab K Chand Goshay

Farsi Adab K Chand Goshay

    130

    فارسی اور اردو کے باہمی روابط صدیوں پر محیط ہیں۔ اردو کے ذخیرہ الفاظ میں بے شمار فارسی لفظوں کی موجودگی، ان گہرے تہذیبی و لسانی اثرات کی نشان دہی کرتی ہے جو یہ نوزائیدہ زبان اپنی پیدائش سے آج تک عہد بہ عہد، اس ترقی یافتہ اور قدیم زبان سے قبول کرتی رہی ہے۔ اردو نے فارسی ہی کی آغوش میں پرورش پائی اور اسی زبان کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا۔ ایک زمانہ تھا جب برصغیر میں فارسی کو شاہانِ وقت کی سرپرستی حاصل تھی، ان دنوں فارسی لکھنا اور بولنا بڑی عزت کی بات سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ، فارسی زبان کو اگرچہ وہ قدر و منزلت تو حاصل نہیں رہی مگر پھر بھی بڑی مدت تک اس زبان کا شعر و ادب یہاں کے صاحبانِ ذوق کی آنکھ کا سرمہ بنا رہا ہے۔ اب اس رجحان میں بھی بتدریج کمی ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے پڑھے لکھے طبقے کی غالب اکثریت کا رجحانِ طبع مشرق سے زیادہ مغرب کی طرف ہے اور یوں وہ لحظہ بہ لحظہ اپنے منابع سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انور مسعود کے یہ مضامین جو قدیم و جدید فارسی شعر و ادب کے بعض گوشوں پر بھرپور روشنی ڈالتے ہیں، دراصل اسی قدیم روح کی باز آفرینی اور اپنے اصل کی طرف مراجعت کی تکمیل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کام صرف وہی شخص کر سکتا تھا جو نہ صرف دونوں زبانوں کی تاریخ اور ان کے ادبی مزاج کا نکتہ شناس ہو بلکہ بحیثیتِ شاعر، ان زبانوں کے شعر و ادب کے رموز کا عملی ادراک بھی رکھتا ہو۔ یہ مضامین چونکہ ایک شگفتہ اور دل پذیر اسلوب میں تمام کیے گئے ہیں، اس لیے مکمل ابلاغ کی کیفیت کے ساتھ، قاری کو تا دیر متاثر کرنے کی صلاحیت بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔

    Description

    • Print Length155 pages
    • Publisher Gora Publishers
    • Publication Date1997
    • Sold ByOnline book
    • LanguageUrdu
    • ISBN

    Reviews

    Comments are closed.